قطر سے ایل این جی سپلائی مکمل معطل؛ مائع گیس حکام کا 14 اپریل کے بعد گیس دستیاب نہ ہونے کا خدشہ

اسلام آباد (16 مارچ 2026)
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور کشیدگی کے باعث قطر سے پاکستان کو ایل این جی (مائع قدرتی گیس) کی سپلائی مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی مائع گیس نے سنگین خدشات کا اظہار کیا کہ 14 اپریل 2026 کے بعد پاکستان میں ایل این جی کی دستیابی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

بریفنگ کے اہم نکات

  • جنگ شروع ہونے کے بعد مارچ میں گیس کے 8 کارگو میں سے صرف 2 پاکستان پہنچ سکے۔
  • اپریل میں 6 کارگو میں سے بھی 3 کارگو نہیں آ سکیں گے۔
  • آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت بند ہونے کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے۔
  • موجودہ ذخائر:
  • خام تیل: 11 دن
  • ڈیزل: 21 دن
  • پیٹرول: 27 دن
  • ایل پی جی: 9 دن
  • جے پی-1: 14 دن

یہ ذخائر فی الحال کافی ہیں، مگر صورتحال بگڑنے پر شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

حکومت کا ردعمل
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں عالمی کشیدگی کے پیش نظر ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کے بروقت فیصلوں کی بدولت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے۔

  • بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر معاشی استحکام کے لیے کمیٹی روزانہ جائزہ لے رہی ہے۔
  • کفایت شعاری اور بچت کے اقدامات نافذ العمل ہیں اور تھرڈ پارٹی آڈٹ جاری ہے۔
  • تقسیم کار کمپنیوں کو حکومت کے تعین کردہ نرخوں پر تیل فروخت یقینی بنانے کی ہدایت۔
  • پاک ایپ (Pak App) میں فیچر شامل کر دیا گیا ہے، جہاں صارفین تیل کی عدم دستیابی یا مہنگے داموں کی شکایت کر سکتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ معاشی استحکام اور عوام کو ریلیف اولین ترجیح ہے۔ حکومت کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سمیت دیگر وزراء اور اعلیٰ افسران شریک تھے۔

یہ صورتحال پاکستان کی توانائی کی سپلائی اور معیشت کے لیے سنگین چیلنج ہے۔ حکومت اب متبادل ذرائع اور ذخائر بڑھانے کی کوششیں تیز کر رہی ہے تاکہ رمضان اور گرمیوں کے موسم میں بحران سے بچا جا سکے۔