
لندن/تہران (16 مارچ 2026)
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو اسرائیلی فضائی حملے میں زخمی ہونے کے بعد خفیہ طور پر روس کے دارالحکومت ماسکو منتقل کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روسی فوجی طیارے کے ذریعے انہیں ماسکو لایا گیا، جہاں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے فراہم کردہ خصوصی سہولت میں ان کی ٹانگ کی سرجری کی گئی اور یہ سرجری کامیاب رہی۔
رپورٹ کے مطابق زخم کی شدت کے باعث انہیں فوری طور پر خصوصی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ یہ معلومات ایک ایسے اعلیٰ ذریعے سے حاصل کی گئی ہیں جو مجتبیٰ خامنہ ای کے قریبی حلقوں سے تعلق رکھتا ہے۔
اسرائیلی اور ایرانی موقف
اسرائیلی عہدیداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای حملے میں زخمی ہوئے اور ان کے پیروں پر معمولی زخم آئے۔ دوسری جانب ایران کے سرکاری ٹی وی نے انہیں “رمضان جنگ کا زخمی مجاہد” قرار دیا تھا۔
ایران کے حکومتی مشیر یوسف پزشکیان نے وضاحت کی کہ متعلقہ ذرائع نے بتایا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای بالکل محفوظ اور خیریت سے ہیں۔
افواہوں کا سلسلہ جاری
مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور سلامتی کے بارے میں افواہیں اب بھی جاری ہیں۔ کچھ رپورٹس میں ان کی موت یا شدید زخمی ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جبکہ روسی علاج کی یہ خبر بھی ابھی تک سرکاری طور پر تصدیق شدہ نہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ اگر وہ زندہ ہیں تو ان کا پیچھا کر کے انہیں ضرور قتل کر دیا جائے گا۔
یہ صورتحال ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کا حصہ ہے، اور عالمی میڈیا میں بحث جاری ہے کہ آیا یہ خبریں حقیقت پر مبنی ہیں یا پروپیگنڈا کا حصہ ہیں۔ اب تک کوئی آزاد ذریعہ اس کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔






