افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کا پاکستان کے خلاف سخت بیان؛ کابل حملے کا بدلہ لینے کا عزم

کابل (18 مارچ 2026)
افغانستان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے پاکستان کی طرف سے کابل میں کیے گئے فضائی حملے کا بدلہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ حقانی نے ہلاک شدگان کی اجتماعی تدفین کے موقع پر کہا کہ “ہم بدلہ لیں گے۔ ہم نہ تو کمزور ہیں اور نہ ہی لاچار۔” انہوں نے حملہ کرنے والوں کو “مجرم” قرار دیتے ہوئے تنبیہ کی کہ “آپ اپنے جرائم کے نتائج بھی دیکھ لیں گے۔”

حقانی نے کہا کہ وہ جنگ نہیں چاہتے اور مسائل کو سفارت کاری سے حل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، مگر حملے کا جواب دینا ضروری ہے۔

حملے کی تفصیلات
پاکستان نے 16 مارچ کی رات کابل میں ایک طبی مرکز (ڈرگ ری ہیبلیٹیشن کلینک) کو نشانہ بنایا تھا، جہاں منشیات کے عادی مریضوں کا علاج کیا جا رہا تھا۔ طالبان حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں تقریباً 400 افراد ہلاک اور 250 سے زائد زخمی ہوئے۔ اقوام متحدہ کے افغانستان امدادی مشن (UNAMA) نے بھی 143 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، جن میں اکثریت زیر علاج مریض تھے۔

پاکستان نے ان اعداد و شمار کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ حملہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کیا گیا تھا۔

جاری کشیدگی
پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوجی کشیدگی کئی ہفتوں سے جاری ہے۔ اس دوران سرحدی علاقوں میں جھڑپیں اور پاکستان کی طرف سے افغانستان میں متعدد فضائی حملے ہو چکے ہیں۔ پاکستان کا موقف ہے کہ یہ حملے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کیے جا رہے ہیں جو پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

افغانستان کی طالبان حکومت نے اسے جارحیت قرار دیا ہے اور جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔

چینی مندوب کی کوششیں
چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کے لیے مشن شروع کیا ہے، مگر اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

صورتحال نازک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مزید تصادم کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ عالمی برادری، خاص طور پر چین اور اقوام متحدہ، کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔